Skip to content

As-Seerah Urdu

خورشید ندیم اور دنیاوی کامیابی کا ہیضہ

شاہنواز فاروقی مسلمانوں کے لیے دنیا اور آخرت کا باہمی تعلق یہ ہے کہ دنیا دار الامتحان ہے اور آخرت دارالجزا۔ دنیا عمل کے لیے ہے اور آخرت عمل کی جزا کے لیے۔ چنانچہ اصل کامیابی دنیا کی نہیں آخرت کی ہے۔ کروڑوں انسان ہوں گے

مسلمانوں کا فکری دھارا مختلف کیوں

شاہنواز فاروقی جاوید احمد غامدی اس حد تک مغرب سے مرعوب ہیں کہ وہ مسلمانوں کو بھی مغرب کے رنگ میں رنگے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مغرب نے خدا اور مذہب کا انکار کیا ہے۔ غامدی صاحب مسلمانوں سے خدا اور مذہب کے انکار کے لیے تو نہیں کہتے مگر وہ

شورائیت اور  جمہوریت

جاوید انور شورائیت اسلامی نظام ِاجتماعیت اور سیاست ہے، جمہوریت مغربی نظامِ اجتماعیت اور سیاست ہے۔ شورائیت  میں اہل الرائے کی رائے لی جاتی ہے، جمہوریت میں بالغ رائے دہندگی ہے۔ شورائیت میں بندوں کوتولا کرتے ہیں جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں۔ شورائیت میں جمہورعلماء کی رائے کی

خیر میں اتفاق اور شر میں انتشار

جاوید انور خیر وہ ہےجو انسان اور کائنات کے خالق و مالک نے ہمیں  بتا دیا ہے۔ شر وہ  ہے جسے انسان نے شیطان کی مدد سے اپنی خواہشات نفس کے مطابق ایجاد کیا ہے۔ کائنات کا اصول ِواحد اصولِ خیر ہے۔ شر کا کوئی اصول نہیں ہے۔ خیر ہدایت

آپ کے بچوں کو ہم جنس فیملی کے حوالے کرنےکامنصوبہ

جاوید انور بچوں کو ان کی ماوُں کی گود اور باپ کے آغوش سے چھین کو فاحش  ہم جنس  جوڑوں کو دینے کا پروگرام  بن چکا ہے۔ پہلے بچوں کو  آہستہ آہستہ جینڈرکے حوالے سے کنفیوژ کیا جائے گا، اور  اس کے بعد  جنسی  طور پر

کینیڈا: تاریخ انسانی کا بدترین نظام تعلیم

جاوید انور کینیڈا کا تعلیمی  نظام تاریخ انسانی کا بدترین نظا م تعلیم بن چکا ہے۔ اور اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں ہے۔  کینیڈا  میں فاحِش کمیونٹی  کے بہت سے اپنے فاحش لائف اسٹائل والے سیاسی  لیڈرز ہیں  اور رہے ہیں۔ ایک بڑا نام  اونٹاریو  لبرل کی کیتھلین

صنف سے آزاد  جنسی مُنحَرِفین اور  صِنْفی  مُرتَدین

جاوید انور    میری آپ سے گزارش یہ ہے کہ  کینیڈا اور امریکا کی فاحش تہذیب اور کلچر کو اگر خوب اچھی طرح سمجھنا ہے اور  اس سے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اور اپنی  آئندہ نسلوں کو  بچانا ہے  تو ہمارے ان کالموں کوغور سے

کینیڈا کے فاحش ایکٹ اور قوانین

جاوید انور کینیڈا اور دنیا بھر میں پھیل رہی موجودہ فاحِشَہ تحریک  صرف عمل قوم لوط نہیں ہے بلکہ یہ  ایک نیا  جنسی نظریہ  اور صنفی عقیدہ لے کر آئی ہے۔اس  کا عقیدہ  یہ ہے کہ  بچہ پیدائش  میں کوئی جنس لے کر نہیں آتا

کینیڈا میں فاحش قوتیں اور حیا ءتحریک

جاوید انور میرے گزشتہ کالم  میں  آپ نے پڑھا  کہ کس طرح  ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پرکہ  دیا کہ امریکا کی ریاستی پالیسی میں  صرف دو  جنس  ہوں گے، مرد اور عورت ۔ تیسرے کس صنف کی کوئی گنجائش نیست۔ ہمیں یہاں کینیڈا میں  بھی ایک ایسی لیڈرشپ چاہیے

امریکا : حَیاء بمقابلہ فاحِشَہ

جاوید انور ’’اور لوطؑ  کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو(فاحِشَہ)  جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ تم عورتوں

ربوٰ، حلال، حرام, اضطراراور مکان

جاوید انور یہاں شمالی امریکا ( امریکا اور کینیڈا) میں برصغیر سے جو  لوگ  بیسویں صدی کے ساٹھ اور ستّر کی دہائی  میں آئے ، انھیں اکثر جگہوں پر کہیں بھی حلال گوشت میسر نہیں تھا۔  جو لوگ  گوشت کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ، انھوں نے یہودیوں کا ’’کو

سود کا لین دین: قرآن ، سنت و سیرت

جاوید انور    ’’اوراس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:’’تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف

سود کی آندھی اور ابن المال

جاوید انور ٹو رونٹو میں ہمارے  پڑوس، ہمارا محلہ، ہمارا علاقہ کرایہ داروں کا علاقہ ہے یہاں بیسیوں  بہت اونچی ، اور  بیسیوں  کم اونچی عمارتیں ہیں ۔ یہ سب اپارٹمنٹ بلڈنگ ہیں جو کسی نہ کسی مینیجمنٹ کے تحت چلتی ہیں۔  ہمارا کام صرف کرایہ  ادا کرنا ہوتا ہے،  بقیہ اپارٹمنٹ

اَہلِ سود کی اسلامی جماعت

جاوید انور ہماری آنکھوں کے سامنے  افغانستان نے  دنیا کے دو سوپر پاورز سوویت یونین اور امریکا سے یکے بعد دیگرے طویل جنگ کی، اور اس میں وہ کامیاب رہے۔ لیکن  یہ بھی معلوم رہے کہ  اس سے قبل افغان قوم سیکڑوں سال سے  اللہ اور اس کے رسول

میرا مکان کیسا ہو؟

میرا مکان ایسا ہوا جس کا ایک تنکا بھی حرام کا نہ ہو۔ میرا مکان ایسا ہو جس میں  سود کا دھواں  تک نہ پہنچے۔ میرا مکان ایسا ہو جس میں کسی کا قرض نہ ہو۔ میرا مکان ایسا ہوجہاں کوئی ناگوار بات سنائی نہ دے۔ میرا مکان ایسا ہو

جاہلی سیاست  اوراسلامی سیاست  کے  بیانیہ کا فرق

جاوید انور جاہلی  مغربی سیاست کا بیانیہ حقوْق کے مطالبہ کا بیانیہ ہے۔ جب کہ اسلامی سیاست کا بیانیہ فرائض کی ادائیگی کا بیانیہ ہے۔  جاہلی سیاست حقوق کا ڈھول جتنا تیز بجا  رہی ہے اس سے تیز قوموں، گروہوں، اور  مختلف طبقات کے لوگوں کےحقوق چھن رہے ہیں۔