Skip to content

جاہلی سیاست  اوراسلامی سیاست  کے  بیانیہ کا فرق

جاوید انور

جاہلی  مغربی سیاست کا بیانیہ حقوْق کے مطالبہ کا بیانیہ ہے۔ جب کہ اسلامی سیاست کا بیانیہ فرائض کی ادائیگی کا بیانیہ ہے۔

 جاہلی سیاست حقوق کا ڈھول جتنا تیز بجا  رہی ہے اس سے تیز قوموں، گروہوں، اور  مختلف طبقات کے لوگوں کےحقوق چھن رہے ہیں۔ مزدوروں کے حقوق،  کارکنوں کے حقوق، کسانوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق، بچوں کے حقوق ،  کالوں کے حقوق،  گوروں کے حقوق ،غریبوں کے حقوق، طلباء کے حقوق،  بوڑھوں کے حقوق، جانوروں کے حقوق، گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کے حقوق،  کتوں اور بلیوں کے حقوق، زمین کے حقوق، دریاوُں اور پہاڑوں کے حقوق، پتّوں، ٹہنیوں اور  درختوں کے حقوق،  پانی کے قطروں، ہواوُں، اور ٖفضاوُں کے حقوق،  اور یہ تمام حقوق چھن رہے ہیں۔

حقوق کی طلب میں  اب وہ لوگ بھی شامل ہو گئے  ہیں جو اپنے اپنے گناہ اور جرائم  کے لیے حقوق مانگ رہے ہیں، اور انھیں لوگوں کے حقوق  ترجیحات   میں پہلے نمبر  پرہیں۔ مثلاً جنسی منحرفین اور صنفی مرتدین    (LGBTQQIP2SAA)  کے تمام گروہوں کو   تمام حقوق حاصل ہو چکے ہیں۔ بلکہ ان گروہوں کو اپنی طرز زندگی کی ترویج و اشاعت  کو قانونی اور حکومتی تمام تر مدد اور سرپرستی  بھی حاصل ہے۔ ننھے معصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی فعل کے حقوق کی لڑائی بھی بہت اوپر  جا چکی ہے۔  اب ہو سکتا ہے یہ ’’حقوق‘‘بھی حاصل ہو جائیں۔ فحاشی کے حقوق، سیکس ورکرز اور طوائفوں  کے حقوق ، عریانیت کے حقوق، سڑک پر اور  آبادیوں میں    ادھ ننگا(topless)  اور الف ننگا (nude) چلنے کے حقوق، برہنہ  پارک اور ننگے ساحل مہیا کرانے کے حقوق،  اسی طرح خودکشی اور مرنے کے حقوق بھی  مل چکے ہیں،  ڈاکٹر کی مدد سے  موت کا انجکشن لے کر خودکشی کی اجازت  مل چکی ہے۔  عورتوں کو اسقاط حمل  کے حقوق بہت  پہلے مل چکے ہیں۔  شراب پی کر بہکنے اور جوا کھیل کر جیبوں سے نوٹ  سمیٹنے کے حقوق   کی حفاظت سرکاری  سطح پر کی جاتی ہے۔  چرس، گانجا، افیون،  ہیروئن وغیرہ استعمال کرنے اور بیچنے کے حقوق کے تحفظ کی تحریک بہت کامیاب  جا رہی ہے۔

دوسری طرف عرب، مسلم دنیا اور جنوبی ایشیاء پر  نظر  ڈالیں تو   عربوں کے حقوق،  غیر عربوں کے حقوق،  مقامی لوگوں کے حقوق، خارجی  لوگوں کے حقوق،  ترکوں کے  حقوق، غیر ترکوں کے حقوق،   کُردوں کے  حقوق،  برطانوی   اور امریکی سامراج کے ( تسلط بنائے رکھنے کے ) حقوق ،   ہندوستانیوں کے حقوق، ہندوُں کے حقوق، مسلمانوں کے حقوق، دلتوں کے حقوق، پسماندہ طبقات کے حقوق،  انتہائی پسماندہ کے حقوق، آدی باسیوں کے حقوق،  برہمنوں کے حقوق، چھتریوں کے حقوق،  ویشیا وُں کے حقوق،  شودروں کے حقوق،  انتہائی پچھڑی جاتی کے حقوق،   سکھوں کے حقوق، عیسائیوں اور پارسیوں کے  حقوق،   بدھوں، جینوں اور دیگر  مذاہب کے لوگوں کے حقوق،  سُنّیوں کے حقوق ، شیعوں کے حقوق،  اسماعیلیوں کے حقوق،  بوہریوں کے  حقوق، سید، شیخ اور پٹھان کے حقوق،  انصاری، جولاہے اور دیگر ذاتوں  کے مسلمانوں کے حقوق،   آسامیوں  کے حقوق، منی پوریوں کے حقوق،  میتیوں کے حقوق ، کوکیز کمیونٹی کے حقوق، ناگالینڈ اور میزورم کے حقوق ،مشرقی ریاستوں کے حقوق،  جنوبی ہند کے حقوق، شمالی ہند کے حقوق،   کشمیریوں کے حقوق،   جمّوں کے حقوق، لدّاخ کے حقوق۔ بہاریوں کے حقوق،  جھارکھنڈیوں  کے حقوق،   دیہاتوں کے اور شہروں  کے حقوق،  گاوُں، چھوٹے شہروں اور غریب صوبوں سے بڑے شہروں کو پلائن ( منتقل) کرنے والے   مزدوروں کے حقوق،  امیروں اور سرمایہ داروں کے  (دولت سمیٹنے کے)حقوق، تاجروں، اور صنعت کاروں کے  حقوق،  مندروں کے حقوق، مساجد کے  حقوق ، خانقاہوں، درگاہوں  اور امام بارگاہوں  کے حقوق، گوردواروں ،  چرچوں،  اور مٹھوں  کے  حقوق۔

پاکستان  بننے کے بعد بنگالیوں کے حقوق،  بلوچوں ، سندھیوں، پٹھانوں، پنجابیوں اور کشمیریوں کے  حقوق، سندھ میں مہاجروں کے  حقوق،  سندھیوں  کے حقوق،   اردو اور سندھی  کے  حقوق،  کراچی  کے حقوق، کراچی میں مہاجروں، پنجابیوں اور پٹھانوں  کے حقوق،  لاڑکانہ کے حقوق،  کوئٹہ کے حقوق، پشاور  کے  حقوق، لاہور کے  حقوق،  جنوبی اور شمالی پنجاب کے  حقوق، پنجابی  زبان کے حقوق، سرائیکی  زبان کے  حقوق،  سرگودھیوں کے حقوق اور ملتانیوں کے حقوق ۔تعلیمی حقوق، معاشی حقوق،  ملازمت کے  حقوق،  کوٹہ کے حقوق اور بغیر کوٹہ والوں  کے حقوق، انگریزی  زبان کے حقوق، اردو زبان کے حقوق۔ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے حقوق،   افسر شاہی کے حقوق،  اورفوج شاہی کے (بالادستی قائم رکھنے اور عزت کی بحالی کے) حقوق۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد  بھی   بنگلہ اور  بنگالی  حقوق، بہاریوں کے  حقوق، سِلہٹیوں کے حقوق،  راج شاہی کے حقوق،  چٹاگانگ  کے حقوق، سیاسی  جماعتوں کے  حقوق، جمہوری حقوق، سیاسی  حقوق، حزب مخالف کے  قائدین کے زندہ رہنے کے  حقوق۔

ہر طرف سے حقوق حقوق حقوق اور حقوق کی بازگشت ، حقوق کی طلب، حقوق کی پکار،  حقوق کی  آواز ہے  اور حقوق ادا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

دوسری طرف اسلامی سیاست کا  بیانیہ  فرائض کی ادائگی کا بیانیہ ہے۔ یہ حقوق کے مطالبہ کے بجائے حقوق  کو ادا کرنے اور نبھانے کا  بیانیہ ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں نبھانا ہے،  حکومت میں ہوں یا نہ ہوں، فرائض کی ادائیگی ہر حال میں اور ہر جگہ کرنی ہے۔فرائض ادا کرنے ہیں والدین کے، باپ کے ، ماں کے ، بہن کے، بھائی کے،  بیوی کے، شوہر کے، بیٹے کے ، بیٹی کے، خالہ کے، چچا کے، ماموں کے، پھوپھی کے،  دادا کے، دادی کے، نانا کے، نانی کے، بھانجے اور بھانجیوں کے، بھتیجوں اور بھتیجیوں کے، رحم کے تمام رشتوں کے، تمام قریب اور دور کے  رشتہ داروں کے ،  پڑوسیوں کے، مومنوں کے، امت مسلمہ کے، عام  شہریوں کے، تمام دیس باسیوں کے،  یتیموں کے، بیواوُں کے،  مسکینوں کے،  مسافروں کے، تمام انسانوں کے،   اگر عوام ہیں تو حکومت کے، اگر حکومت ہے تو عوام کے، فرائض ادا کرنے ہیں۔

پانی ضائع نہیں کرنا ہے خواہ دریا کے کنارے بیٹھے ہوں۔ بلا ضرورت ایک پتہ بھی نہیں  توڑنا ہے،  طہارت اعلیٰ  اورصفائی ستھرائی انتہائی  عمدہ  رکھنی ہے،  رحم دلی  کا سایہ جانوروں  اور تمام  ذی روح تک دراز ہونا ہے۔ اپنی ضرورت پر اپنے بھائی کو ترجیح دینا  ہے،   بھوکے  کو کھانا کھلاوُ اور پیاسےکو پانی پلاوُ  خواہ تم خود بھوکے اور پیاسے ہو۔ تمہارے سامنے کتا بھوکا اور بلی پیاسی نہ رہ جائے۔ شکارکرو تواپنی ضرورت سے ذرا بھی زیادہ نہ ہو۔ خوب خرچ کرو ۔ قرآن کہتا ہے اپنی ضرورت سے زیادہ سب خرچ کر دو۔ ’’پوچھتے ہیں : ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں ؟ کہو : جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو ‘‘ (البقرہ:219 )۔ سنت کے مطابق صاحب نصاب کو کم از کم ڈھائی فی صد تو ادا کرنا ہی ہے۔ خواہ آپ فطرتاً کتنے بھی  بخیل ہوں، اتنی رقم تو نکالنی ہی ہوگی۔ ظرف بڑا، دل کشادہ،  نگاہ  بلنداور جان پرسوز   ہونی چاہیے۔

تاجر ہوں تو اپنے گاہک اور خریدار کے حقوق ادا کریں، ایمانداری اور شفافیت کے فرائض انجام دیں، قیمت بڑھانے کے لیے  ذخیرہ اندوزی   نہ کریں، منافع کمائیں لیکن منافع پرستی کی لعنت میں مبتلا نہ ہوں۔ اگر گاہک ہوں تو تاجر کے حقوق ادا کریں، اسے گھاٹا نہ دیں، اس کا نقصان نہ کریں، اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ اگر آپ کے  پاس دولت ہو تو ایسے اہل  لوگوں کو دیں جو تجارت کرکے زکوٰۃ دینے کے قابل ہو جائیں۔ ڈاکٹروں کو بیماری کا دشمن ہونا چاہیے نہ کہ بیمار کا (لوٹنے  کے لیے) ،   ضعیفوں کا ہاتھ پکڑنا ہے،اپاہجوں، یتیموں اور بیواوُں کو سہارا  دینا ہے، چادر اور چار دیواری کی ہر حال میں حفاظت کرنی ہے۔ اپنی اور کمزوروں کی جان و مال  و عزت کی حفاظت کے لیے لڑنا ہے خواہ اس میں جان چلی جائے، یہ شہادت کا رتبہ ہے۔ بھلائیوں کو پروان  چڑھانا اور   برائیوں کو روکنا ہے۔ظلم کے خلاف کھڑا ہونا  ہے، ناانصافی کو روکنا ہے۔ فرائض، فرائض، فرائض اور فرائض۔

اسلامی سیاست فرائض کی تکمیل اور حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔  حقوق مانگنے سے ادا نہیں ہوتے، بلکہ اپنے حقوق کو نظر انداز کرکے دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے بالآخر سب کو حقوق مل  جاتے ہیں۔

 E Mail: Jawed@SeerahWest.com

Facebook: https://www.facebook.com/JawedAnwarPage

X:  https://twitter.com/AsSeerah

Latest

اسلامی سیاست کی تین بنیادیں

جاوید انور اسلامی سیاست کی تین وہی بنیادیں ہیں جو اسلام کی بنیادیں ہیں یعنی توحید، رسالت، اور آخرت۔ ۱۔  توحید:  سیاست کا پہلا سوال یہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ کس کا ہوگا، مقتدر ہستی یا ادارہ کون ہوگا،  اقتدار کا ارتکاز کہاں ہوگا،  بالا تر  کون ہوگا، سروری  (Sovereignty)

Members Public

پاکستان : آٹھ فروری کا انتخاب اور سات بڑے مسائل، کون کرے گا حل؟

(یہ کالم روزنامہ جسارت، پاکستان میں ۸ فروری سے قبل شائع ہو چکا ہے۔) جاوید انور پاکستان میں الیکشن کے نام پر آٹھ فروری  کو کیا ہونے جا رہا ہے،  اور پاکستان کے ووٹرز  کو کیا کرنا چاہئے،اس پر میرا تبصرہ ہے کہ  نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے

Members Public

اب، جب کہ سب عشق کرنے لگے

ہم سے چند نسل قبل کے لوگ  عشق کم کیا کرتے تھے، لیکن جب کرتے تھے تو اسے نبھا دیتے تھے۔ میر  تقی میر کے والد علی متقی اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ بیٹا عشق کیا کر، عشق کے بغیر زندگی نامکمل اور ناقص اور بے لذت ہے۔

Members Public