Skip to content

پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟ (2)

جاوید انور

ٹرمپ کا نام نہاد "امن معاہدہ" اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی منظور ہو گیا ہے۔ 17 نومبر 2025 کو قرارداد نمبر 2803 (2025) کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے تین اور دس غیر مستقل ارکان میں سے دس نے حق میں ووٹ دیا۔ ان غیر مستقل ارکان میں تین مسلم ممالک بھی شامل ہیں: پاکستان، الجزائر اور صومالیہ۔ تینوں نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ مستقل ارکان روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔

جب ٹرمپ یہ منصوبہ لائے تو عالم اسلام کے آٹھ بڑے مسلم ممالک کو اس کی حمایت کے لیے ہموار کر دیا گیا تھا: پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، ترکی، مراکش اور انڈونیشیا۔ چند مسلم ممالک، بشمول پاکستان، نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مسودے میں کچھ تبدیلیوں کی سفارش کی تھی۔ تاہم، ان ممالک نے امریکی مسودے کی مشترکہ حمایت کی اور کوئی ترمیم شامل نہ کی گئی۔ البتہ، آخر میں اسرائیل کی پیش کی گئی ایک ترمیم کو منظور کر لیا گیا۔ان مسلم ممالک کی خواہش پر شِرم الشیخ میں معاہدے کی تقریبِ جشن میں اسرائیل کو مدعو نہ کیا گیا۔ لیکن اس تقریب میں اسرائیل کے علاوہ تمام  بے شرم الشیخ  جمع ہوئے اور فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی مدافعتی قوت کو کچلنے والے اس پلان کا جشن منایا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو  "سیلوٹ" مارا۔

ٹرمپ کا 20 نکات پر مشتمل یہ منصوبہ دراصل کیا ہے؟ اور ان کی اصل خواہش کیا ہے؟ ٹرمپ نے متعدد بار اس کا اظہار کیا ہے کہ وہ غزہ کے باشندوں کی لاشوں اور ان کے خون کے دریا پر ایک ساحلی تفریحی مقام، یعنی سمندر کنارے ایک عیش گاہ (ریویئرا) بنانا چاہتے ہیں۔ یہ 20 نکاتی منصوبہ اس کی بنیاد ہے، اور یہ عیش گاہ بھی عرب امیر ممالک کی سرمایہ کاری سے بنے گی۔اس معاہدے اور قرارداد کی پہلی شق تو جنگ بندی (سیز فائر) ہے، لیکن اقوام متحدہ کی "بے" سلامتی کونسل سے قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسرائیل نے جنگ بندی نہ کی۔ وہ روزانہ درجنوں لوگوں کو، جو زیادہ تر بچے اور حاملہ عورتیں ہوتی ہیں، شہید کر رہا ہے۔ عام شہری ہاتھ اٹھا کر شرٹ اتار کر یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ نہتے ہیں، لیکن اسرائیلی فوج انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہے۔

 یہ نسل کشی کی مہم ایک دن کے لیے بھی نہیں رکی، اور یہ قرارداد مسلم حکمرانوں کی بے غیرتی اور ایک مضحکہ خیز تماشہ کا انتہائی نمونہ ہے۔حماس کے قائدین کو ترکی، قطر اور مصر نے یرغمال بنا رکھا ہے اور بندوق کے نوک پر ان سے حمایت لے لی گئی ہے۔ کوئی بھی قوم اپنے موت کے پروانے پر دستخط نہیں کر سکتی۔اس قرارداد کا حتمی نتیجہ ایک قوم کی مکمل نسل کشی ہے۔ قرارداد کے بعد بھی غزہ پر جو 65 فیصد علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے، وہ قبضہ برقرار رہے گا۔ عملاً، اسرائیل آزادی کے ساتھ باقی 35 فیصد علاقوں میں نسل کشی جاری رکھے گا۔

 اس قرارداد میں ڈونلڈ ٹرمپ کی نگرانی میں ایک "بو رڈ آف پیس" (BoP) یعنی ایک عبوری انتظامی ادارہ قائم کیا جائے گا، جو غزہ کی حکومت، فنڈنگ اور ترقی کی دو سال تک نگرانی کرے گا۔ یعنی اسرائیل کا سرپرست اعلیٰ امریکا، غزہ کا "نگران" بن جائے گا۔ اس کا اولین کام یہ ہوگا کہ وہ ایک "انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس" (ISF) یعنی عارضی بین الاقوامی فورس غزہ میں تعینات کرے، جو غزہ کی فوجی تنصیبات کو تباہ کرے گی، حماس جیسے مقتدر گروہوں کے ہتھیار ضبط کرے گی اور ان کے فوجی انفراسٹرکچر کو ختم کر دے گی۔ دوسری طرف، دہشت گرد اور نسل کش ریاست اسرائیل کو ہر طرح سے تحفظ حاصل ہوگا، اور وہ اپنا سیکورٹی پیرامیٹر برقرار رکھے گا۔

عالم اسلام اور عالم شرق و غرب میں جو لوگ اس معاہدے اور قرارداد پر تالیاں بجا رہے ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں، وہ دراصل فلسطینیوں، ان کی مدافعتی قوت اور حماس حکومت کے مخالف ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے حمایتی اور رفیق ہیں، خواہ زبان سے ایسا کہیں یا نہ کہیں۔ بہت سے ایسے مسلم ممالک ہیں جنہوں نے اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کے عروج میں بھی اس کی معاشی اور فوجی مدد کی ہے۔جب عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) اور عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے نیتن یاہو اور اسرائیل کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دے دیا تھا—جس کا مطلب صاف تھا کہ اسرائیل کا مکمل تجارتی اور سپلائی لائن کا بائیکاٹ ہو—تو بھی مسلم ممالک نے اس کی مدد جاری رکھی۔

"آئل چارج" (Oil Charge) رپورٹ، جو تیل کی صنعت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے (بشمول ڈرلنگ سرگرمیاں، قیمتیں، ترسیل اور صنعت کا مستقبل کا منظرنامہ)، نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ اس کے مطابق، اسرائیل کی فلسطینی نسل کشی کے عروج میں بھی کروڈ (خام) اور ریفائنڈ تیل (پیٹرول) کی سپلائی جاری رہی۔ یعنی اسرائیل کو اس نسل کشی کی جنگ میں ٹینکوں، آرٹیلری اور دیگر حرکت پذیر فوجی سامان کے لیے انرجی کی مسلسل سپلائی ہوتی رہی۔25 ممالک نے دونوں طرح کے تیل (کروڈ اور ریفائنڈ) اسرائیل کو سپلائی کیے۔ ان میں سے 323 شپمنٹ ترکی کے ذریعے آئے۔ کل 21.2 ملین بیرل تیل سپلائی ہوا، اور اس میں سب سے زیادہ دو مسلم ممالک سے آیا: 40 فیصد کروڈ آئل مسلم ریاست آذربائیجان سے، اور 30 فیصد مسلم ریاست قازقستان سے۔ یہ مجموعی طور پر 70 فیصد بنتا ہے۔ یعنی صرف دو مسلم ممالک فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے 70 فیصد ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ باقی 30 فیصد کی لسٹ میں بھی مسلم ممالک جیسے نائیجیریا اور مصر شامل ہیں۔ یہ سارا ایندھن ترکی کی مدد سے، یعنی صدر ترکیے "اسلامی" اردگان کی مدد سے اسرائیل جاتا ہے۔ آذربائیجان کا ایک ایک قطرہ تیل بھی ترکیے کے راستے جاتا ہے۔ یہ وہی اردگان ہیں جنہیں ہمارے ہاں تحریک اسلامی کا لیڈر سمجھا جاتا ہے اور جمہوریت کے راستہ سے اسلام کی فتح کا پرتو دیکھا جاتا ہے۔ کسی شخص کا ماضی کچھ بھی ہو، اسے حال کی حالت سے ہی پہچانا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ اتنے  اعلیٰ درجہ کے  سفارتی اور تجارتی تعلقات کسی بھی مسلم ملک کے نہیں ہیں، اور اردگان کا کردار ایک بڑے منافق کا کردار ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اور پاکستان ابراہم اکورڈز—یعنی اسرائیل کو تسلیم کرنے والے معاہدے—پر دستخط کر دیں گے؟ سعودی عرب کا پہلا موقف تھا کہ فلسطین کی ریاست کے قیام سے قبل اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ لیکن اب وہ کہنے لگا ہے کہ فلسطین کے قیام کا "راستہ" بھی بتا دیا جائے تو وہ قبول کر لے گا۔ جس دن سعودی عرب نے ابراہم اکورڈز پر دستخط کر لیے، پاکستان کے حکمران یہ کہیں گے کہ وہ سعودی عرب سے زیادہ "مسلمان" نہیں ہو سکتے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی فوج انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) میں شامل ہو کر غزہ جائے گی، یا اسے بھیجا جائے گا؟ میرے نزدیک اس کا امکان بہت کم ہے۔ البتہ، افغانستان میں طالبان حکومت کو الٹنے کے لیے حملہ آور ہونے کے پروپگنڈے کا محاذ تیار ہو چکا ہے، اور عملاً حملہ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے یا کی جا چکی ہے۔ ابھی امریکی خدمت کا یہی پاکستانی محاذ ہے۔

نتیجہ کیا نکلے گا؟ سوائے عقل کے چند اندھوں کے، اس کا جواب سب کے پاس ہے۔

WhatsApp Channel (New): AsSeerah

E-mail: AsSeerah@AsSeerah.com

Subscribe: AsSeerah+subscribe@groups.io

Follow:  AsSeerah Facebook Page         AsSeerah X     

Be the Writer’s Friend   

https://www.facebook.com/JawedAnwarPage

Comments

Latest

پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟  (1)

پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟  (1)

جاوید انور 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کو اعتماد میں لیے بغیر کارگل کی چڑھائی کی۔ بہت سے تجزیہ کاروں اور سابق امریکی سفارت کاروں کے مطابق یہ آپریشن امریکی اشارے پر ہوا تھا۔ جب بھارت کو مکمل طور پر امریکی کیمپ میں منتقل کرنے اور

فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (2)

فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (2)

جاوید انور  پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم نے پاکستانی عدلیہ کو تو ڈھیر کر ہی دیا ہے، اور اس پر بہت کچھ شائع ہو رہا ہے اور وکلاء اور میڈیا میں زیر بحث ہے۔ لیکن جس بات پر کم بات ہو رہی ہے، وہ ملٹری ڈکٹیٹرشپ کو آئین طور

فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (1)

فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (1)

جاوید انور پاکستان کے آئین میں جو 27ویں ترمیم ہوئی ہے، اسے تاریخی، فوجی، عالمی اور علاقائی جیو پالیٹکس کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امن کے راستے کی باتیں تو کرتے ہیں، مگر دراصل وہ جنگ کی راہ پر مسلسل گامزن ہیں۔ انہوں نے اپنے محکمہ

فلسطین کے گرد گھومتی عالمی جغرافیائی سیاست

فلسطین کے گرد گھومتی عالمی جغرافیائی سیاست

جاوید انور حالات حاضرہ اور عالمی و علاقائی جیو پولیٹکس میں بہت تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا بنایا ہوا نام نہاد امن معاہدہ دراصل فلسطین کے مکمل خاتمہ اور گریٹر اسرائیل کی طرف پیش رفت کا معاہدہ ہے۔ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی، اور