Skip to content

حالات حاضرہ

خورشید ندیم اور دنیاوی کامیابی کا ہیضہ

خورشید ندیم اور دنیاوی کامیابی کا ہیضہ

شاہنواز فاروقی مسلمانوں کے لیے دنیا اور آخرت کا باہمی تعلق یہ ہے کہ دنیا دار الامتحان ہے اور آخرت دارالجزا۔ دنیا عمل کے لیے ہے اور آخرت عمل کی جزا کے لیے۔ چنانچہ اصل کامیابی دنیا کی نہیں آخرت کی ہے۔ کروڑوں انسان ہوں گے

مسلمانوں کا فکری دھارا مختلف کیوں

مسلمانوں کا فکری دھارا مختلف کیوں

شاہنواز فاروقی جاوید احمد غامدی اس حد تک مغرب سے مرعوب ہیں کہ وہ مسلمانوں کو بھی مغرب کے رنگ میں رنگے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مغرب نے خدا اور مذہب کا انکار کیا ہے۔ غامدی صاحب مسلمانوں سے خدا اور مذہب کے انکار کے لیے تو نہیں کہتے مگر وہ

ربوٰ، حلال، حرام, اضطراراور مکان

ربوٰ، حلال، حرام, اضطراراور مکان

جاوید انور یہاں شمالی امریکا ( امریکا اور کینیڈا) میں برصغیر سے جو  لوگ  بیسویں صدی کے ساٹھ اور ستّر کی دہائی  میں آئے ، انھیں اکثر جگہوں پر کہیں بھی حلال گوشت میسر نہیں تھا۔  جو لوگ  گوشت کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ، انھوں نے یہودیوں کا ’’کو

سود کا لین دین: قرآن ، سنت و سیرت

سود کا لین دین: قرآن ، سنت و سیرت

جاوید انور    ’’اوراس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:’’تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف

سود کی آندھی اور ابن المال

سود کی آندھی اور ابن المال

جاوید انور ٹو رونٹو میں ہمارے  پڑوس، ہمارا محلہ، ہمارا علاقہ کرایہ داروں کا علاقہ ہے یہاں بیسیوں  بہت اونچی ، اور  بیسیوں  کم اونچی عمارتیں ہیں ۔ یہ سب اپارٹمنٹ بلڈنگ ہیں جو کسی نہ کسی مینیجمنٹ کے تحت چلتی ہیں۔  ہمارا کام صرف کرایہ  ادا کرنا ہوتا ہے،  بقیہ اپارٹمنٹ

اَہلِ سود  کی اسلامی جماعت

اَہلِ سود کی اسلامی جماعت

جاوید انور ہماری آنکھوں کے سامنے  افغانستان نے  دنیا کے دو سوپر پاورز سوویت یونین اور امریکا سے یکے بعد دیگرے طویل جنگ کی، اور اس میں وہ کامیاب رہے۔ لیکن  یہ بھی معلوم رہے کہ  اس سے قبل افغان قوم سیکڑوں سال سے  اللہ اور اس کے رسول

پاکستان : آٹھ فروری کا انتخاب اور سات  بڑے مسائل، کون کرے گا حل؟

پاکستان : آٹھ فروری کا انتخاب اور سات بڑے مسائل، کون کرے گا حل؟

(یہ کالم روزنامہ جسارت، پاکستان میں ۸ فروری سے قبل شائع ہو چکا ہے۔) جاوید انور پاکستان میں الیکشن کے نام پر آٹھ فروری  کو کیا ہونے جا رہا ہے،  اور پاکستان کے ووٹرز  کو کیا کرنا چاہئے،اس پر میرا تبصرہ ہے کہ  نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے

اب، جب کہ سب عشق کرنے لگے

اب، جب کہ سب عشق کرنے لگے

ہم سے چند نسل قبل کے لوگ  عشق کم کیا کرتے تھے، لیکن جب کرتے تھے تو اسے نبھا دیتے تھے۔ میر  تقی میر کے والد علی متقی اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ بیٹا عشق کیا کر، عشق کے بغیر زندگی نامکمل اور ناقص اور بے لذت ہے۔